Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اٹیچ باتھ روم یا غسل خانہ بنانے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
1517-WAT

Question

اٹیچ باتھ روم یا غسل خانہ بنانا کیسا؟

Answer (beginning)

انی ہاتھ روم یا غسل خانہ بنانا شرعاً جائز ہے، البتہ اس بات کا خیال رہے کہ عمومی طور پر ایسے ہاتھ روم اور ٹوائلٹ کے درمیان کوئی دیوار یا بڑا دروازہ وغیرہ اس انداز میں نہیں لگا ہوتا کہ جس کے سبب دونوں مقام الگ الگ شمار ہوں، لہذا ایسے اٹیچ ہاتھ میں وضو کرنے سے پہلے بسم اللہ شریف یا دوران وضو پڑھی جانے والی دعائیں، وظائف نہیں پڑھ سکتے۔ اور اگرا نیچ ہاتھ اس انداز سے بنا ہوا ہو کہ ٹوائلٹ اور ہاتھ روم کے درمیان کوئی دیوار ، دروازہ، یا پھر لو ہے یا لکڑی کی چادر ، شیٹ لگا دی جائے کہ ٹوائلٹ اور ہاتھ روم جدا جدا حیثیت اختیار کر جائیں تو اب ہاتھ روم میں وضو کرتے ہوئے ذکر و وظائف اور دعائیں پڑھ سکتے ہیں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.