Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زنا یا ہم جنس پرستی کے حلال ہونے کی تمنا کرنا کیسا؟

Fatwa no.
1504-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی زنا یا ہم جنس پرستی کے حلال ہونے کی خواہش کرے تو اس کا کیا حکم ہے۔

Answer (beginning)

زنا یا ہم جنس پرستی کے حلال ہونے کی خواہش کرنا کفر ہے اور ایسا کرنے والے پر تو بہ و تجدید ایمان اور نکاح ہونے کی صورت میں تجدید نکاح کرنا ضروری ہے۔ کسی حرام کے حلال ہونے کی خواہش کرنے کے کفر ہونے یا نہ ہونے کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر وہ چیز کبھی حلال ہی نہ تھی جیسا کہ زنا اور ہم جنس پرستی تو اس کے حلال ہونے کی تمنا کرنا کفر ہے۔ الفتاوی الھندیہ میں ہے: "لو تمنى أن لم يحرم الله الظلم والزنا وقتل النفس بغير الحق فقد كفر؛ لأن هذه الأشياء لم تكن حلالا في وقت " ترجمہ : اگر کوئی خواہش کرے کہ ظلم، زنا اور ناحق قتل حلال ہوتا تو یہ کفر ہے۔ کیونکہ یہ اشیاء کبھی بھی حلال نہیں ہوئیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.