Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کسی کو نیکیاں ایصال کرنے سے کم ہوجاتی ہیں؟
- Fatwa no.
- 1497-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ہم کسی کو ایصالِ ثواب کر دیں، تو کیا ہمارے نامہ اعمال میں کچھ نہیں رہے گا؟
Answer (beginning)
مسلمانوں کو ایصالِ ثواب کر نانہایت مستحسن عمل ہے، جس کو ایصال کیا جائے ، اسے بھی بھی پہنچتا ہے اور ایصالِ ثواب کرنے والا بھی اجر و ثواب سے محروم نہیں رہتا، اس کے عمل کا اجر اس کے لئے بھی باقی رہتا ہے ، بلکہ جتنے افراد کو ایصال کیا جائے ، ان سب کی گنتی کے برابر ایصال کرنے والے کو بھی نیکیاں ملتی ہیں۔ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے "وقدمنا في الزكاة عن التتارخانية عن المحيط الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.