Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آن لائن کام لے کر کسی اور سے کروانا کیسا ؟

Fatwa no.
1496-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں آن لائن کام کرتا ہوں جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ میں لوگوں سے رابطہ کرتا ہوں کہ آپ نے اپنے کاروبار کے لیے کوئی ایڈیا ویب سائٹ بنوانی ہے تو میں آپ کو بنا کر دیتا ہوں، جبکہ مجھے یہ کام نہیں آتا بلکہ ہوتا یہ ہے کہ اگر کوئی مجھے سے کہتا ہے کہ میں نے ویب سائٹ بنوانی ہے تو میں اس کے ساتھ ریٹ فائنل کر کے اس کی ریکوائر منٹ کے مطابق اسے کسی سے ویب سائٹ بنوا کر دیتا ہوں، تو کیا میرا اس طریقے پر کام کرنادرست ہے ؟

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں اگر مذکورہ کام کروانے والے اور آپ کے درمیان یہ شرط نہیں ہوتی کہ آپ خود یہ کام کر کے دیں گے تو اس صورت میں آپ کسی اور سے بھی وہ کام کروا کے دے سکتے ہیں بشر طیکہ کام جائز ہو اور کام کرنے کروانے میں کوئی ناجائز کام نہ کرنا پڑے، جھوٹ و دھوکے سے کام نہ لیا جائے اور نہ ہی عقد میں کوئی ناجائز شروط وغیر و ہو بہار شریعت میں ہے " جس سے کام کرانا ہے اگر اُس سے یہ شرط کر لی ہے کہ تم کو خود کرنا ہو گا یا کہہ دیا کہ تم اپنے ہاتھ سے کرنا اس صورت میں خود اسی کو کرناضروری ہے اپنے شاگرد یا کسی دوسرے شخص سے کام کرانا جائز نہیں اور کرادیا تو جرت واجب نہیں اس صورت میں سے دایہ کا استثنا ہے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.