Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دکان میں بیچنے کی نیت سے موجود سامان پر زکوۃ کا حکم
- Fatwa no.
- 1489-WAT
Question
گا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا دوکان پر جو سامان بیچنے کے لیے رکھا ہے اس پر زکوۃ دینی پڑے گی اگر دینی پڑے گی تو کس طرح حساب لگایا جائے
Answer (beginning)
دکان میں بیچنے کی نیت سے موجود سامان ، مال تجارت کہلاتا ہے اور مال تجارت پر زکاۃ لازم ہوتی ہے امداد کان پر بیچنے کے لیے جو سامان رکھا ہے ، وجوب زکوۃ کی شرائط پائے جانے کی صورت میں اس پر ز کو لازم ہو گی۔ زکوۃ کا حساب لگانے کا طریقہ یہ ہے کہ : جس وقت آپ کے نصاب کا سال پورا ہو ، اس وقت سارے مال تجارت کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت لگالی جائے اور مزید بھی اگر ایسا موجود ہو ، جس پر زکا و لازم ہوتی ہے ( سونا، چاندی، کرنسی مال تجارت و غیرہ) تو ان کے ساتھ اس کو شامل کر لیا جائے۔ اور اگر مزید مال نہیں تو تنہا اسی پر حساب لگا لیا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.