Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اپنی خالہ کی بیٹی سے نکاح کاحکم
- Fatwa no.
- 1486-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) سلام : کیا خود کی خالہ کی بیٹی سے نکاح کر سکتے ہیں ؟۔۔۔ جزاک اللہ خیرا۔
Answer (beginning)
اگر نکاح سے ممانعت کا کوئی سبب جیسے دودھ کارشتہ یا سسرالی رشتہ وغیرہ کی حرمت موجود نہ ہو تو اپنی خالہ کی بیٹی سے نکاح ہو سکتا ہے، کیونکہ خالہ کی بیٹی ان عورتوں میں سے نہیں جن سے نکاح حرام ہے۔ بنا یہ شرح ہدایہ میں ہے ”وفي " الذخيرة " : أولاد الأعمام والعمات والأخوال والخالات من المباحات لقوله تعالى : { وَبَنْتِ عَيْكَ وَ بَنْتِ عَمَّتِكَ وَ بَنْتِ خَالِكَ وَ بَنْتِ خُلتِكَ ، ترجمہ : ذخیرہ میں ہے : چچاؤں، پھوپھیوں ، مامؤوں اور خالاؤں کی اولاد مباحات میں سے ہے یعنی ان سے نکاح کرنا مباح ہے اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے کہ اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور بھپیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.