Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خانہ کعبہ پر سب سے پہلے غلاف کعبہ کس سے چڑھایا؟

Fatwa no.
1484-WAT

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کعبتہ اللہ پر سب سے پہلے غلاف کس نے چڑھایا تھا۔ اور کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ آج کل غلاف کعبہ کو سونے اور چاندی کے تار لگائے جاتے ہیں، ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں۔ کچھ معترضین کا کہنا ہے کہ اس سے بہتر ہے کہ غریبوں کی مدد کی جائے۔ کیا ایسا کہنا درست ہے یا نہیں۔ بینوا تو جر وا؟

Answer (beginning)

آغاز اسلام سے پہلے بھی بیت اللہ شریف پر غلاف موجود تھا اور مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے بیت اللہ پر غلاف چڑھائے جن کا تذکرہ تاریخ اور شروح حدیث کی کتب میں موجود ہے۔ سب سے پہلے بیت اللہ شریف پر غلاف کس نے چڑھایا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں: (الف) ایک قول کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سب سے پہلے چڑھایا۔ (ب) ایک قول کے مطابق تبع الحمیری نے سب سے پہلے چڑھایا۔ (ج) اور ایک قول کے مطابق عدنان بن ادد نے چڑھایا۔ یا اس کے زمانہ میں چڑھایا گیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.