Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رمضان میں وترکی جماعت کون کرواسکتاہے ؟
- Fatwa no.
- 1466-WAT
- Issued
- 15 رمضان المبارک 1444ھ / 11 اپریل 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) رمضان المبارک میں وتر کی جماعت کروائی جاتی ہے تو جس نے فرض جماعت کے ساتھ پڑھائے ہوں و ترکی جماعت بھی وہی کرائے یا کوئی اور بھی کر سکتا ہے؟
Answer (beginning)
جس نے فرض پڑھائے اس کے علاوہ دوسرا شخص وتر پڑھا سکتا ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ” جاز أن يصلي الفريضة أحدهما و يصلي التراويح الآخر وقد كان عمر - رضي الله تعالى عنه – يؤمهم في الفريضة والوتر وكان أبي يؤمهم في التراويح، كذا في السراج الوهاج “ ترجمہ : یہ جائز ہے کہ ایک شخص عشا کے فرض پڑھائے دوسرا تراویح۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشا کے فرض کی امامت کرتے تھے اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تراویح کی۔ اسی طرح سراج الوہاج میں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.