Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فجر کی نماز پڑھ کرسونے کے حوالے سے تفصیل و وضاحت

Fatwa no.
1457-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو روایات میں بیان کیا گیا کہ فجر پڑھ کر سونا باعث رزق میں تنگی ہوتی ہے ، مطلب رزق میں کمی وبے برکتی ہوتی ہے ، اس کی صحیح تشریح کیا ہے ؟ جب summer کے مہینے آتے ہیں، تو فجر بہت جلدی ہو جاتی ہے اور اٹھنے کے 3،4 گھنٹے بعد بندے کا کام شروع ہوتا ہے، تو اگر وہ اس دوران کام کے وقت سے پہلے سوئے گا، تو بے برکتی ہوتی ہے۔ اس کی وضاحت مل جائے ؟

Answer (beginning)

حدیثوں میں فجر کی نماز پڑھنے کے بعد سونے سے منع کیا گیا ہے لیکن یہ ممانعت ناجائز کی حد تک نہیں اور ان روایتوں کا یہ مطلب بھی نہیں کہ فجر کے بعد سارا دن سونا منع ہو بلکہ ان روایتوں کا مطلب یہ ہے کہ بہتر ہے کہ فجر کی نماز پڑھ کر جاگتار ہے اور ذکر و تسبیح وغیرہ میں مصروف رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے کیونکہ اس وقت مخلوق میں رزق تقسیم کیا جاتا ہے ، لہذا اس دوران ذکر و درود اور استغفار وغیرہ میں مشغول رہنا چاہیے لیکن اگر کوئی فجر کی نماز پڑھنے کے بعد سو جاتا ہے، تب بھی ناجائز یا گناہ نہیں ہے ، البتہ مکروہ تنزیہی یعنی نا پسندیدہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.