Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کسی وجہ سے حالت احرام میں بدن کی کھال اکھیڑنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1455-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عمرہ کے دوران احرام کی حالت میں اگر کسی مقام کی کھال ابھر گئی اور اسے اکھیڑ دیا تو اس کے متعلق کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
حالت احرام میں اگر کسی مقام کی کھال اکھٹر گئی یا اکھیڑ دی تو اس صورت میں کچھ لازم نہیں ہو گا فقہائے کرام نے احرام کی حالت میں ختنہ کروانے کو جائز قرار دیا ہے اور ختنہ میں بھی کھال کو جدا کیا جاتا ہے۔ بہار شریعت میں ہے کہ احرام میں یہ باتیں جائز ہیں:۔۔۔۔ ٹوٹے ہوئے ناخن کو جدا کر دینا۔ ونبل یا پھنسی توڑ دینا۔ ختنہ کرنا۔۔۔۔ الخ ( بسیار شریعت، حصہ 6، صفحه 1081 ، مكتبة المدينه) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزوَجَل وَ رَسُولُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Darulifta Ahlesunnat Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.