Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منت ماننے کے لیے نیت کافی ہے یا زبان سے کہنا ضروری ہے ؟

Fatwa no.
1453-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ منت کے لیے زبان سے کہنا ضروری ہے ؟ یا پھر دل کی نیت کا بھی اعتبار ہے؟

Answer (beginning)

قوانین شرعیہ کے مطابق منت کے تحقیق کے لیے ، زبان سے کم از کم اتنی آواز سے منت کے الفاظ کہنا ضروری ہے کہ کوئی مانع سماعت ( شور وغیرہ) نہ ہو تو اپنے کانوں تک آواز آسکے، اتنی آواز سے زبان سے ادا ئیگی کیے بغیر فقط دل میں نیت کرنے سے منت لازم نہیں ہوتی۔ محیط برہانی میں اس بات پر علماء احناف کا اجماع نقل کیا گیا ہے کہ منت صرف نیت کرنے سے لازم نہیں ہوتی ، جب تک زبان سے منت کے الفاظ نہ کہے جائیں۔ منت کار کن بیان کرتے ہوئے امام علاؤالدین ابو بکر بن مسعود کا سانی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: " فرکن النذر هوالصيغة الدالة عليه" اور نذر کار کن وہ لفظ ہے جو نذر پر دلالت کرے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.