Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیرخداکی قسم دینے سے قسم ہوگی یا نہیں ؟

Fatwa no.
1452-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مجھے کسی نے کوئی بات بتائی تھی اور کہا تھا کہ تمہیں تمہاری بیٹی کی قسم ہے یہ بات کسی کو مت بتانا لیکن میرے منہ سے وہ بات نکل گئی، میں نے دوسرے کو بتادیا ہے ، تو اب میری بیٹی کو اس کا نقصان پہنچے گا یا کیا ہو گا؟ نیز کیا کسی کو اس کے ماں باپ اولاد و غیرہ کی قسم دینے سے قسم ہو جاتی ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ کو دی گئی قسم شرعی قسم نہیں تھی کیونکہ شرعی قسم صرف اللہ پاک کے نام وصفات کی ہوتی ہے، کسی اور کی قسم، قسم نہیں ہوتی، لہذا اسے پورا نہ کرنا کسی نقصان کا سبب بھی نہیں ہے۔ البتہ جب دوسرے سے یہ وعدہ کیا ہو کہ میں کسی کو نہیں بتاؤں گا، تو پھر بہتر یہی ہے کہ وعدہ پورا کیا جائے اور وہ بات کسی کو نہ بتائی جائے۔ نیز یہ بھی یادر کھیں کہ دوسرے کو قسم دینے سے بھی اس دوسرے پر تب تک قسم لازم نہیں ہوتی، جب تک وہ اس قسم کو قبول نہ کرلے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.