Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گدھے اورخچرکے جوٹھے پانی سے وضوکا حکم
- Fatwa no.
- 1449-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) گدھے اور خچر کے لعاب کا کیا حکم ہے، پاک ہے یا نا پاک؟ اس سے وضو ہو جائے گا یا نہیں ؟
Answer (beginning)
گدھے اور خچر کا لعاب طاہر (پاک) ہے کہ اگر بدن و غیرہ پہ لگ جائے، تو ناپاکی کا حکم نہیں ہو گا، لیکن اس کا جو ٹھا پانی وضو کے معاملے میں مشکوک ہے یعنی اس کے قابل وضو ہونے میں شک ہے، لہذا اس سے وضو نہیں ہو سکتا کہ حدث متیقن ( یقینی طور پر حکمی ناپاکی ) طہارت مشکوک سے زائل نہ ہو گا۔ اور یہ حکم اس صورت میں ہے کہ اچھا پانی موجود ہو، لیکن اگرا اچھا پانی نہ ہو ، تو اسی سے وضو کر لے اور تمیم بھی اور بہتر یہ ہے کہ وضو پہلے کرلے اور اگر عکس کیا یعنی پہلے تیم کیا پھر وضو ، جب بھی حرج نہیں اور اس صورت میں وضو میں نیت کرنی ضروری ہے اور اگر وضو کیا اور تم نہ کیا یا تیم کیا اور وضو نہ کیا، تو نماز نہ ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.