Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوسرے ملک میں عقیقہ اور عقیقہ کے گوشت کی تقسیم کا حکم؟

Fatwa no.
1444-WAT

Question

(1) اگر کوئی بندہ پیرس میں ہو اور وہ پاکستان میں عقیقہ کرنا چاہے تو کیا وہ پاکستان میں کسی کو کہہ کر عقیقے کا بکرا ذبح کروا سکتا ہے؟ (2) اور عقیقے کے جانور کے گوشت کو تقسیم کرنے کا طریقہ کیا ہو گا؟

Answer (beginning)

(1) اگر کوئی شخص پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک میں ہو تو وہ پاکستان میں موجود کسی شخص کو عقیقے کے لیے وکیل بنا سکتا ہے اور دوسرا شخص اگر اس کی طرف سے جانور خرید کر عقیقے کے لیے ذبح کروادے گا، تو عقیقہ ہو جائے گا جیسے قربانی کا معاملہ ہے۔ (2) اور عقیقے کے جانور کے گوشت کو بھی قربانی کے جانور کے گوشت کی طرح تین حصوں میں تقسیم کیا جائے اور یہ مستحب ہے، تین حصوں کی تفصیل یہ ہے کہ ان میں سے ایک حصہ فقراء کے لیے، دوسرا دوست احباب اور رشتے داروں کے لیے اور تیسرا اپنے لیے رکھ لے۔ اور اگر سارا گوشت تقسیم کردیں، یا پکا کر لوگوں کو بطور دعوت کھلادیں تو یہ بھی جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.