Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فضائل میں حدیث شاذ،معلل یا متروک کو بیان کرنا

Fatwa no.
1441-WAT

Question

(دعوت اسلامی) کیا حدیث شاذ، معلل یا متروک کو بیان فضیلت کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

حدیث شاذ ، معلل، متروک یا ضعیف کی دیگر انواع مذہب راج پر فضائل میں مقبول ہے، بشر طیکہ موضوع کے درجہ پر نہ پہنچے۔ فتاوی رضویہ میں ہے " پھر درجہ ششم میں ضعف قوی و و ہن شدید ہے، جیسے راوی کے فسق وغیرہ قوادح قویہ کے سبب متروک ہو نابشر طیکہ ہنوز سرحد کذب سے جُدائی ہو ، یہ حدیث احکام میں احتجاج در کنار اعتبار کے بھی لائق نہیں، ہاں فضائل میں مذہب راج پر مطلقا اور بعض کے طور پر بعد انجبار بتعدد مخارج و تنوع طرق منصب قبول و عمل پاتی ہے۔" (فتاوی رضویه، ج 05، ص440،رضا فاونڈیشن، لاہور) دوسری جگہ ہے " حدیث مضطرب بلکہ منکر بلکہ مدرج بھی موضوع نہیں ،۔۔۔ یہاں تک کہ فضائل میں مقبول ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.