Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حضرت امام حسن اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما کی خلافت کی تفصیل
- Fatwa no.
- 1437-WAT
Question
بعض لوگ خلفاء راشدین میں حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بھی شامل کرتے ہیں کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میری خلافت 30 سال ہی میں مکمل ہو گی اور یہ 30 سال تبھی مکمل ہوتے ہیں، جب حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کو تسلیم کیا جائے ، تو کیا حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی خلفاء راشدین میں شامل ہیں؟ نیز کیا حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی خلیفہ رہے ہیں اور اگر رہے ہیں ، تو ان کی خلافت کس حدیث سے ثابت ہے ؟ کیونکہ اس طرح خلافت کے زمانے کے حساب میں فرق آئے گا؟ نیز بعض لوگ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو مانتے ہیں لیکن ان کا نام لے کر تعریف کرنا پسند نہیں کرتے یعنی دل سے نہیں مانتے ، ان کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت حدیث سے ثابت ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خلافت کا زمانہ تیس سال بیان فرمایا اور یہ تیس سال حضرت سید نا امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت ہی پر پورے ہوتے ہیں، لہذا حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ خلفاء راشدین میں شامل ہیں۔ خلافتِ راشدہ تھیں سال تک رہی، جو حدیث پاک میں ہے اور یہ عرصہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اس طرح مکمل ہو گیا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر کے خلافت ان کے سپرد کر دی، تو یوں خلافتِ راشدہ تھیں سال پر پر ختم ہوئی اور اس کے بعد اسلام کے پہلے سلطان و باد شاہ حضرت امیر معاویہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.