Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایک وقت میں دو یا اس سے زائد نمازیں جمع کرنا

Fatwa no.
1436-WAT

Question

(دعوت اسلامی) ایک ویڈیو ہے جس میں دو یا اس زائد نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنے کو جائز بتایا ہے اور بطور دلیل مسلم شریف کی حدیث بیان کی ہے۔ لہذامیر اسوال یہ ہے کہ کیا دو یا اس سے زائد نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا جائز ہے ؟

Answer (beginning)

سفر و حضر میں کسی بھی عذر کی وجہ سے ایک وقت میں دو نمازیں جمع کرنا جائز نہیں ہے سوائے مزدلفہ میں مغرب وعشا کے اور میدان عرفات میں ظہر و عصر کے (اس کی شرائط کے ساتھ)۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ” ولا يجمع بین الصلاتين في وقت واحد لا في السفر ولا في الحضر بعذر ماعدا عرفة ولمزدلفة كذافى المحيط “ ترجمہ : ایک وقت میں دو نمازوں کو جمع نہیں کر سکتا نہ سفر میں اور نہ حضر میں کسی بھی عذر کی وجہ سے ، سوائے عرفہ اور مزدلفہ کے ، اسی طرح محیط میں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.