Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قضا روزہ توڑنے کا حکم

Fatwa no.
1435-WAT

Question

قضاروزہ توڑا ہے یاٹوٹ گیا تو کیا اس کی قضا لازم ہوگی ؟

Answer (beginning)

قضاروزہ توڑا ہے یا ٹوٹ گیا تو اس کی قضا لازم ہو گی یعنی وہ قضا جس چھوٹے ہوئے روزے کی قضا تھی، اس کی ادائیگی نہ ہوئی لہذا اب دوبارہ اس کی قضار کھنا لازم ہے ، یہ مطلب نہیں کہ اس چھوٹے ہوئے کی الگ قضار کھے اور اس قضا کی الگ۔ در مختار میں ہے ” أو أفسد غیر صوم رمضان أداء “ ترجمہ : یار مضان کے اداروزے کے علاوہ کوئی روزہ توڑا تو بھی کفارہ لازم نہیں۔ اس کے تحت ردالمحتار میں ہے " (قوله: أداء) حال من صوم وقيد به لإفادة نفي الكفارة بإفساد قضاء رمضان لا لنفى القضاء أيضا با فسادہ “ ترجمہ: (مصنف کا قول : ادا) یہ روزے سے حال بن رہا ہے اور مصنف نے اس کی قید اس افادے کے لئے لگائی کہ رمضان کے قضا روزے کو توڑنے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.