Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فرض روزے قضا ہوں تو کیا نفل روزے رکھیں؟
- Fatwa no.
- 1433-WAT
Question
اگر کسی پر فرض روزے قضا ہوں تو کیا وہ نفل روزے رکھ سکتی ہے ؟
Answer (beginning)
اولا یہی کوشش کی جائے کہ جلد از جلد فرض روزوں کی قضا کر لی جائے کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اور نفلی روزے نہ رکھے تو کوئی پکڑ بھی نہیں جبکہ فرائض میں کوتاہی پر پکڑ ہے۔ اور حدیث پاک میں ہے " جس پر پچھلے رمضان کی قضا باقی ہے اور وہ نہ رکھے اس کے اس رمضان کے روزے قبول نہ ہوں گے۔اور جو فرض روزہ ذمے ہوتے ہوئے نفلی روزہ رکھے تو اس کا نفلی روزہ قبول نہیں ہو گا۔ مسند امام احمد بن حنبل میں ہے ” عن أبي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: "من أدرك رمضان و عليه من رمضان شيء لم يقضه ، لم يتقبل منه ، ومن صام تطوعا وعليه من رمضان شيء لم يقضه، فإنه لا يتقبل منه حتى يصومه “ ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.