Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جنت کی خوشبونہ پانے کا کیا مطلب ہے ؟

Fatwa no.
1432-WAT

Question

کچھ گناہ ایسے ہیں کہ جن کے متعلق نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے مر تکب کو جنت کی خوشبو بھی نہ آئے گی، کیا وہ گناہ کرنے والا کافر ہو جاتا ہے ؟ ان احادیث کا کیا مطلب ہو گا ؟

Answer (beginning)

اہلسنت کے عقیدے کے مطابق کفر و شرک کے علاوہ اگرچہ کوئی کتنا بڑا گناہ کرلے ، اس کی وجہ سے وہ اسلام سے نہیں نکلتا، البتہ اگر کسی گناہ کو حلال سمجھتا ہو ، تو بعض صورتوں میں کفر کا حکم ہو سکتا ہے۔ اور جہاں تک ان احادیث مبارکہ کا معاملہ ہے کہ جن میں کسی خاص گناہ کے ارتکاب پر فرمایا گیا کہ اس کے مر تکب کو جنت کی خوشبو بھی نہ آئے گی ، تو اس کے معانی کو بیان کرنے میں علمائے کرام نے جو کچھ بیان فرمایا ہے ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ : " وہ بندہ ابتداء جنت میں نہیں جائے گا بلکہ اپنے گناہ کا عذاب پورا ہونے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفاعت کے بعد جنت میں جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.