Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اللہ پاک کو قرض دینے کی وضاحت

Fatwa no.
1427-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) روایت کا مفہوم ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، اللہ پاک کو قرض دینے کے مترادف ہے اس کے متعلق بتائیے گا؟

Answer (beginning)

قرآن پاک میں اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنے کو اللہ پاک کو قرض دینے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس مقام پر اللہ پاک کو قرض دینے سے یہ مراد ہے کہ اسے قیامت والے دن لازمی اور یقینی طور پر اللہ پاک کی طرف سے اس کی راہ میں خرچ کرنے کا ثواب ملے گا یعنی اس کا یہ عمل ضائع نہیں ہو گا۔ چنانچہ اللہ پاک نے سورۃ البقرہ، پ 2، آیت نمبر 245 میں ارشاد فرمایا: ( مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُطْعِقَدَلَة اضْعَافًا كَثِيرَة ترجمہ کنز الایمان ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گنا بڑھا دے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.