Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قسم کے کفارے میں رکھے جانے والے روزوں کاطریقہ
- Fatwa no.
- 1417-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قسم توڑنے کے کفارے میں جو تین روزے رکھنے ہوتے ہیں، کیا وہ روزے لگاتار رکھنے ہوتے ہیں نیز اگران میں سے کوئی روزہ توڑ دیا، تو کیا اس کا بھی کفارہ ہو گا ؟
Answer (beginning)
قسم کے کفارے میں جو تین روزے رکھنے ہوتے ہیں، وہ مسلسل رکھناضروری ہیں،اگر ایک دن کا ناغہ ہو گیا، تو دوبارہ نئے سرے سے روزے رکھنے ہوں گے۔ رہا کفارے کا معاملہ تو اگر ان میں سے کوئی روزہ توڑ دیا، تو اس پے کفارہ لازم نہیں ہو گا، کیونکہ فقط ادائے رمضان کا فرض روزہ بغیر کسی عذر شرعی کے توڑنے کی صورت میں قضاء کے ساتھ اس کا کفارہ بھی لازم ہوتا ہے، جبکہ کفارے کی بقیہ شرائط پائی جائیں۔ اس کے علاوہ کسی روزے کے توڑنے پر کفارہ نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ یہ یادر ہے کہ ! روزہ فرض، واجب ہو یا نفل ، اگر جان بوجھ کر بغیر کسی عذر شرعی کے توڑا، تو گناہ ہو گا اور اس سے تو بہ کرنی ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.