Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شراکت کے کاروبار میں دونوں شریکوں کا نقصان کتنے فیصد ہوگا؟
- Fatwa no.
- 1414-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک نے74500، دوسرے نے 51460 بطور شرکت دیئے، منافع میں 55%اور %45 کی شرط لگائی،اب تجارت میں نقصان ہو گیا 40000 ہزار روپے بچے، نقصان میں کسی طرح کی شرط نہیں تھی ، اب مابقی کی تقسیم کس طرح ہو گی ؟ ہر ایک کو کتنے روپے ملیں گے ؟
Answer (beginning)
آپ کی بیان کردہ صورت میں دونوں شریکوں کا مال برابر نہیں ہے بلکہ کم و بیش ہے تو اس میں نفع کی تقسیم کاری کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ : یا تو برابر برابر ر کھا جائے یا مال کے حساب سے اور اگر باہمی رضامندی سے کم و بیش رکھنا ہے تو پھر اگر دونوں نے کام کرنا ہے تو زیادہ کام کرنے والے کے لیے زیادہ نفع مقرر کیا جا سکتا ہے، کم کام کرنے والے کے لیے زیادہ نفع مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ اور اگر صرف ایک نے کام کرنا ہے تو کام کرنے والے کے لیے زیادہ نفع مقرر کیا جاسکتا ہے، جس نے کام نہیں کرنا، اس کے لیے زیادہ نفع مقرر نہیں کر سکتے۔ اگر کام نہ کرنے والے کے لیے زیادہ نفع مقرر کیا تو یہ شرکت ناجائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.