Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا جہیز کے سامان پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے؟

Fatwa no.
1406-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم جو اپنی بہن بیٹی کو جہیز کا سامان جیسے برتن، فرنیچر دیتے ہیں، کیا اس سامان پر ز کو ہو گی ؟

Answer (beginning)

جہیز کے سامان جیسے بر تن، فرنیچر پر زکوۃ فرض نہیں ہوتی۔ تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ شمن یعنی سونے، چاندی ( تمام ممالک کی کرنسیاں اور پرائز بانڈز بھی اسی میں شامل ہیں ) اور سائمہ ( یعنی ایسے اونٹ، گائے، بکری وغیرہ جو سال کا اکثر حصہ مفت کی چراگاہ سے چر کر گزارا کرتے ہوں اور ان سے مقصود صرف دودھ اور بچے لینا یا فربہ کرنا ہو، ان جانوروں کے علاوہ کسی بھی چیز پر زکوۃ اسی صورت میں فرض ہوتی ہے کہ جب وہ مالِ تجارت ہو اور مالِ تجارت کی عمومی تعریف یہ ہے کہ : مال تجارت وہ چیز ہے، جسے بیچنے کی نیت سے خرید اجائے، اور اب بھی اس میں بیچنے کی نیت برقرار ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.