Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض لی گئی رقم کو بغیر شرط کے زیادہ لوٹانا
- Fatwa no.
- 1403-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے 20 ہزار روپے کسی جانے والے سے ادھار لئے جب اس نے واپس کئے تو 21 ہزار دیے اپنی مرضی اور خوشی سے شکریے کے طور پر ایک ہزار زیادہ دیئے کہ مشکل وقت میں آپ نے ہمیں قرض دیا۔ پہلے سے طے نہ تھا نہ قرض دینے والے کو پتہ تھا کہ مجھے کچھ زیادہ رقم ملے گی اور قرض لینے والے کی بھی قرض لیتے وقت کوئی نسبت نہ تھی کہ وا پس زیادہ دوں گا، اب اس میں شرعی حکم کیا ہے کیا وہ اوپر والا ایک ہزار روپیہ رکھنا جائز ہوگا؟
Answer (beginning)
اگر قرض لیتے وقت صراحتا یا دلالتا ( مثلا عادة معروف ہونا وغیرہ) کسی طرح زائد رقم لینا، دینا مشروط نہیں تھا، بعد میں قرض کی واپسی کرتے وقت قرض لینے والے نے اپنی خوشی سے، بغیر کسی جبر واکراہ کے ایک ہزار روپے زائد دیئے تو یہ دیناشر عادرست ہے اور لینے والے کے لیے لینا بھی شر عادرست ہے۔ نوٹ: اس میں ایک بات کا لحاظ ضروری ہے کہ ایک ہزار جو زائد دیا جائے تو وہ علیحدہ سے دیا جائے، 20 ہزار کے ساتھ مخلوط (مکس) ومشاع (بغیر جدا کیے اکٹھا) نہ دیا جائے کہ مخلوط ومشاع دینے کی صورت میں ہبہ درست نہیں ہو گا اور لینے والا مالک نہیں ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.