Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کافرکے لیےاجرت پر انگور توڑنا
- Fatwa no.
- 1397-WAT
Question
(دعوت اسلامی) میں یہاں یورپ میں رہتا ہوں، میں کچھ دن تک ایک جزیرے پر جانے والا ہوں وہاں پر گرمیوں میں زیادہ تر کام بیلوں سے انگور اتارنے کا ہوتا ہے ، ہمارا کام صرف انگور اتارنے کا ہوتا ہے اور ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد گورے اس انگور کو شراب بنانے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا یہ انگور اتارنے کا کام کرنا کیسا ہے ؟ انگور اتار نے کے بعد گورے جو اس انگور سے شراب بناتے ہیں اس سے ہماری اجرت پر فرق تو نہیں پڑے گا۔ گرمیوں میں اس جزیرے پر زیادہ تر یہی کام ہوتا ہے۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر گناہ کے کام میں تعاون کی نیت نہ ہو تو اجرت پر بیلوں سے انگور اتارنے کا کام جائز ہے اور ا س کی اجرت بھی حلال ہے اگرچہ یہ معلوم ہو کہ بعد میں ان انگوروں کی شراب بنائی جائے گی کیونکہ یہاں معصیت انگوروں کے عین کے ساتھ قائم نہیں ہے بلکہ انگوروں میں تغیر آنے کے بعد معصیت قائم ہو گی۔ جیسا کہ فقہائے کرام نے ایسے شخص کے ہاتھ انگور بیچنے کو جائز قرار دیا ہے جس کے بارے میں علم ہو کہ یہ انگور کی شراب بنائے گا جبکہ بیچنے والے کی گناہ میں معاونت کرنے کی نیت نہ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.