Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیعت ختم کر کے کسی اور پیر کا مرید ہونا کیسا؟

Fatwa no.
1394-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بچپن میں والدین اگر کسی پیر سے بیعت کروادیں اور بڑے ہونے کے بعد وہ کسی اور پیر کا بیعت ہو نا چاہے تو اس میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

دوسرے سلسلے میں مرید ہونے سے مرادا گر پہلے جامع شرائط پیر کی بیعت ختم کر کے ، دوسرے سے مرید ہونا ہے تو بلا ضرورت شرعی ایسا کرنا ممنوع ہے اور ضرورت شرعی سے مراد پہلے پیر کا جامع شرائط نہ ہونا ہے۔ اسی طرح پہلے جامع شرائط پیر صاحب سے اپنی بیعت قائم رکھتے ہوئے دوسری جگہ مرید ہونے کی بھی اجازت نہیں، اس سے بھی ضرور بچنا چاہئے کیونکہ دو جگہ مرید ہونے والا کسی طرف سے بھی فیض نہیں پاتا۔ البتہ ! ایک پیر کا مرید رہتے ہوئے دوسرے پیر سے طالب ہو سکتے ہیں اور طالب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جامع شرائط پیر ہی کا مرید ہے اور دوسرے جامع شرائط پیر سے بھی فیض حاصل کرنے کے لئے طالب ہو جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.