Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا قبر پر مزار بنانا جائز ہے؟ مزارات کی شرعی حیثیت

Fatwa no.
1386-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا اولیاء کرام کے مزارات بنانا درست ہے ؟ جیسا کہ ہم انڈیا اور پاکستان میں مزار دیکھتے ہیں ؟

Answer (beginning)

انبیائے کرام علیہم السلام اور مشائخ وعلماء و اولیاء عظام علیہم الرحمۃ کی قبروں پر مزار بنایا جاسکتا ہے شرعا اس میں کوئی حرج نہیں۔ علامہ اسمعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1127ھ) قرآنِ کریم کی آیت ( اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ ۚ کے تحت روح البیان میں فرماتے ہیں : ” بناء القباب على قبور العلماء والأولياء والصلحاء ووضع الستور والعمائم والثياب على قبورهم أمر جائز إذا كان القصد بذلك التعظيم في أعين العامة حتى لا يحتقرواصاحب هذاالقبر“ ترجمہ : علماء، اولیاء اور صالحین کی قبروں پر قبے بنانا اور ان کی قبروں پر چادریں، عمامے اور کپڑے رکھنا جائز ہے جبکہ اس سے مقصود عوام الناس…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.