Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قبلہ کی طرف منہ کرکے غسل کرنا کیسا ؟

Fatwa no.
1383-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم نیا ہاتھ روم بنا رہے ہیں، ہاتھ روم میں شاور کی جگہ ایسی بنارہے ہیں کہ جب ہم غسل کریں گے ، تو چہرہ قبلہ کی طرف ہو گا۔ غسل کرتے وقت چیر و یا پیٹھ قبلہ کی طرف کر سکتے ہیں ؟ چہرہ

Answer (beginning)

غسل کے آداب میں سے ہے کہ غسل کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ ہو کیونکہ عام طور پر غسل کپڑے اتار کر یعنی بر ہنگی کی حالت میں کیا جاتا ہے اور اس حالت میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر نا، خلاف ادب اور مکروہ تنزیہی ہے۔ لہذا آپ کو چاہیے کہ شاور کا رخ اس طرح رکھوائیں، کہ غسل کے دوران قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ ہو۔ غسل کے آداب کے متعلق در مختار میں ہے: " و آدابه کادا به سوی استقبال القبلة لانه يكون غالباً مع کشف عورۃ اور اس کے آداب، وضو کے آداب کی طرح ہیں سوائے استقبال قبلہ کے کیونکہ غسل غالب طور پر کشف عورت کے ساتھ ہوتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.