Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بغیرسبب کے سجدہ سہوکرنا

Fatwa no.
1372-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص نماز پڑھارہا تھا اور نماز میں سجدہ سہو واجب نہیں تھا، لیکن احتیاط کر لیا، تو کیا نماز ادا ہو گئی ؟

Answer (beginning)

نماز میں سجدہ سہو واجب نہ ہو، تو بلاضرورت سجدۂ سہو کرنا منع ہے، البتہ نماز ہو جائے گی ، ہاں ! اگر امام نے احتیاطی سجدہ سہو کیا اور مسبوق مقتدی ( یعنی جس کی کوئی رکعت نکل چکی تھی) نے بھی امام کے ساتھ سجدہ سہو کر لیا، تو اس مسبوق کی نماز ٹوٹ جائے گی۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولا نا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ : جس نماز میں سہو نہ ہوا اور سجدہ سہو کیا تو نماز جائز ہے یا نہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ” بے حاجت سجدہ سہو نماز میں زیادت اور ممنوع ہے مگر نماز ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.