Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چاند جن کی بلائیں لیتا ہے کفریہ شعر ہے؟

Fatwa no.
1371-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا اس شعر کا تیسرا مصرعہ (چاند جن کی بلائیں لیتا ہے ) کیا یہ کفریہ ہے؟

Answer (beginning)

اللہ اللہ حضور کی باتیں مر حبار نگ ونور کی باتیں چاند جن کی بلائیں لیتا ہے اور تارے سلام کہتے ہیں جواب : یہ شعر کفریہ نہیں ہے۔ بلائیں لینا، بطور محاورہ بولا جاتا ہے ، اس کا معنی واری جانا، صدقے جانا اور قربان ہونا ہے۔ یعنی اس شعر کا مطلب یہ ہو گا کہ : "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ عظیم الشان اور سراپا حسن ذات ہیں، جن پر چاند بھی واری جاتا اور قربان ہوتا ہے۔" فیروز اللغات میں ہے ”بلائیں لینا : ( محاورہ) واری جانا، صدقے جانا، قربان ہونا“(فیروزاللغات، ب،ل، صفحہ 224، فیروز سنز، لاہور) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دام الان…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.