Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا صاحب ترتیب مکروہ وقت میں بھی ترتیب کا لحاظ رکھے گا ؟
- Fatwa no.
- 1368-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) صاحب ترتیب کی ظہر قضا ہو گئی، عصر بھی نہیں پڑھی تھی کہ مکروہ وقت شروع ہو گیا، کیا کرے؟
Answer (beginning)
صاحب ترتیب کی ظہر کی نماز قضا ہو گئی اور آج کی عصر کی نماز اس نے ابھی ادا نہیں کی تھی کہ عصر کا مگر وہ وقت شروع ہو گیا ( یعنی آفتاب زرد ہو گیا) تو ایسی صورت میں اس سے ترتیب ساقط ہے ، وہ اس وقت میں آج کی عصر ادا کرے اور پھر غروب آفتاب کے بعد ظہر قضا کرے۔ نیز یہ یادر ہے کہ عصر کی نماز کو بلا عذر شرعی مکر وہ وقت تک موخر کرنا، مکروہ تحریمی ہے، پس اگر بلا عذر شرعی اتنی تاخیر کی تو اس سے تو بہ بھی لازم ہے۔ بحر الرائق میں ہے "ولونسي الظهر وافتتح العصر ثم ذكره عند احمرار الشمس يمضي لضيق الوقت وكذالو غربت وكذالوافتتحها عند الاصفرار ذاکراثم غربت اهـ.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.