Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرآن مجید کےرکوع اور پاروں کی تقسیم کس نے کی اور وقف کس نے لگائے ؟
- Fatwa no.
- 1364-WAT
- Issued
- 11 رجب المرجب 1444ھ/03فروری2023ء
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قرآنِ مجید میں رکوع، پاروں کے نام اور وقف وغیرہ کی تفصیل کہاں سے آئی ہے؟
Answer (beginning)
(الف) پاروں کی تقسیم نہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے کی، نہ کسی صحابی نے ، نہ کسی تابعی نے۔ یہ بہت بعد کی ہے اور معلوم نہیں کہ اس کی ابتدا کس نے کی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جس شخص نے اس کی تقسیم کی ہے تو اس نے اپنے پاس موجود مصحف شریف کو اوراق کی تعداد کے اعتبار سے برابر برابر تیس حصوں پر تقسیم کر لیا اور یہ تقسیم ان ان مواقع پر آکے واقع ہوئی، اور یہی ہمارے ہاں رائج ہو گئی۔ فتاوی رضویہ میں ہے " پاروں پر تقسیم امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نہ کی نہ کسی صحابی نہ کسی تابعی نے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.