Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

والدین کی لڑائی میں اولاد کس کا ساتھ دے؟

Fatwa no.
1351-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ماں باپ کی آپس میں لڑائی ہو، تو اولاد کو کس کی سائیڈ لینی چاہیئے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اولاد کو ماں باپ میں سے کسی ایک کی بھی سائیڈ نہیں لینی چاہیے کیونکہ اگر اولاد کسی ایک کی سائیڈ لیتے ہوئے دوسرے کو تکلیف دے گی یا اس سے بد تمیزی کرے گی، تو سخت گنہ گار ہو گی۔ اولاد پر ماں باپ دونوں کا حق اور ادب و احترام لازم ہے اور کسی ایک کو بھی دکھ، تکلیف دینا یا اس سے سخت زبان سے بات کرناوغیرہ سب حرام اور جہنم کی حقداری کا سبب ہے۔ ایسی صورت میں والدین میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کی بجائے خاموشی اور دعا کا سہارالینا چاہیے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.