Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غسل فرض ہونے کی حالت میں جانور ذبح کرنا کیسا ؟

Fatwa no.
1349-WAT

Question

کیا حالت جنابت میں جانور ذبح کر سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

جی ہاں حالت جنابت میں جانور ذبح کر سکتے ہیں کہ ذبح کے لیے ذبح کرنے والے کی طہارت شرط نہیں نیز وہ جانور بھی حلال ہو گا بشر طیکہ درست ذبح ہو اور حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو، البتہ بہتر یہی ہے کہ پاک ہو کر ذبح کیا جائے کیونکہ ذبح عبادت الہی ہے جس سے خاص اُس کی تعظیم چاہی جاتی ہے پھر اس میں تسمیہ و تکبیر ذکر الہی ہے تو بعد طہارت اولی ہے اگر چہ ممانعت اب بھی نہیں۔ سیدی اعلی حضرت امام اہل سنت شاہ احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں : " اور غسل نہ اُترنے کو ذبیحہ ناجائز ہونے سے کیا علاقہ ! طہارت شرط ذبح نہیں، جنب کے ہاتھ کا ذبیحہ بھی درست ہے ۔۔۔۔۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.