Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جنازہ کسی جگہ سے گزرے، تو اسے دیکھ کر کھڑے ہونا چاہئے یا نہیں؟
- Fatwa no.
- 1347-WAT
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) جنازہ کسی جگہ سے گزرے، تو اسے دیکھ کر کھڑے ہو نا چاہئے یا نہیں؟
Answer (beginning)
کسی جگہ بیٹھے ہوں اور وہاں سے جنازہ گزرے، تو کھڑ نا ہو نا ضروری نہیں، اور کھڑے ہونے کے متعلق روایت میں جو حکم آیا ہے ، وہ منسوخ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پہلے کھڑے ہوتے تھے لیکن بعد میں اسے ترک فرمادیا۔ ہاں جو شخص ساتھ جانا چاہتا ہے، وہ اٹھے اور جنازے کے ساتھ شامل ہو جائے۔ در مختار میں ہے " (ولا يقوم من في المصلى لها إذار آها) قبل وضعها ولا من مرت عليه هو المختار، وما ورد فيه منسوخ زيلعي " ترجمہ : اور جو جنازگاہ میں ہے وہ جنازہ دیکھ کر اسے رکھے جانے سے پہلے ، اس کے لیے کھڑا نہ ہو اور نہ وہ جس کے پاس سے جنازہ گزرا، یہی مختار ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.