Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اعضائے وضومیں پینٹ کا نشان ہوتو کیا کرے ؟
- Fatwa no.
- 1337-WAT
- Issued
- 12 جمادی الاخرى 1444ھ/05 جنوری 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کے اعضائے وضو یعنی جن اعضا کو وضو میں دھونا فرض ہے، ان میں سے کسی عضو پر دیوار پر کیا جانے والا جرم دار پینٹ لگ جائے اور وہ شخص وضو سے پہلے سے پینٹ کے نشان کو اتارنے کی بہت کوشش کرے لیکن کوشش کے باوجود پینٹ نہ اترے تو اس کے لیے کیا حکم ہے اگر وہ شخص ایسے ہی وضو کر کے نماز پڑھ لے تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی اعضائے وضو پر لگے ہوئے پینٹ کے نشان کو اتارنے میں مشقت کا سامنا ہوا اور صحیح کوشش کے باوجود وہ نہیں اتر اتو وہ معاف ہے اور اسی حالت میں جو نماز پڑھی وہ ادا ہو گئی۔ اعلی حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں : حرج کی تین صورتیں ہیں: ایک یہ کہ وہاں پانی پہنچانے میں مضرت ہو جیسے آنکھ کے اندر۔ دوم مشقت ہو جیسے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی۔ سوم بعد علم و اطلاع کوئی ضرر و مشقت تو نہیں مگر اس کی نگہداشت ، اس کی دیکھ بھال میں دقت ہے جیسے مکھی مچھر کی پیٹ یا الجھا ہوا گرہ کھایا ہوا ہال۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.