Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کفریہ بات یا کفریہ چٹکلے پر ہنسنے والے کا حکم؟

Fatwa no.
1336-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی نے کوئی کفریہ بات کہی ، اور اس پر کوئی شخص ہنس پڑا، مثلاً کسی نے کوئی کفریہ چٹکل کہا، اور اسے سن کر کوئی ہنس جائے، تو اس بننے والے پر کیا حکم ہو گا ؟

Answer (beginning)

کسی کفریہ بات یا پھر کفر یہ چٹکلے پر اگر کوئی شخص رضا مندی کے ساتھ ، اس کفریہ بات کی تائید کرتے ہوئے ہنسا، تو ایسے شخص پر حکم کفر ہے ، ہاں اگر اس بات سے راضی نہیں اور بے اختیار ہنسی نکل گئی، تو معاف ہے۔ شیخ طریقت امیر السنت کفریہ بات پر بننے سے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: "جو کفریہ بات پر رضامندی سے ہنسا اس پر بھی حکم کفر ہے۔ بے اختیار ہنسی آئی، تو معاف ہے۔ جیسے کوئی ایسی بات ہو جو کفریہ ہے مگر پھٹکے یا مزاح کا معنی رکھتی ہو اور اسے سن کر بے اختیار ہنسی آئی اس پر حکم گھر نہیں البتہ اگر اس کے ساتھ دل سے راضی بھی ہو تو کفر ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.