Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا اللہ کے نبی کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں؟

Fatwa no.
1316-WAT
Issued
11 جمادی الاولی 1444ھ /07دسمبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میری نظر سے یہ حدیث پاک گزری ہے اسکی تشریح فرمادیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عبد مناف کے بیٹو اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لواے عبد المطلب کے بیٹوا اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لواے زبیر بن العوام کی والدہ رسول اللہ کی پھوپھی اے فاطمہ بنت محمد تم دونوں اپنی جانوں کو اللہ عزوجل سے بچالو میں تمہارے لیے اللہ کی بارگاہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں تم دونوں میرے مال سے جتنا چاہو مانگ سکتی ہو ؟؟

Answer (beginning)

مذکورہ حدیث مبارکہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبیلے اور خاندان کو دین اسلام قبول کرنے کی خصوصی تبلیغ فرمائی ہے کہ تم لوگ ایمان قبول کر لو تا کہ تم جہنم کی آگ سے محفوظ رہ سکو اور اپنی بیٹی اور پھوپھی سے جو فرمایا کہ میں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں تو اس کا معنی یہ ہے کہ اگر تم نے ایمان قبول نہ کیا اور آخرت میں سزا کی مستحق ہو گئیں تو وہ سزا میں تم سے دور نہیں کر سکتا اور تم عذاب الہی سے نہیں بچ سکتیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.