Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا پیشاب بدن پر سوکھنے سے پاک ہوجاتا ہے؟
- Fatwa no.
- 1314-WAT
- Issued
- 11 جمادی الاولی 1444ھ /06دسمبر 2022ء
Question
ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر دودھ پیتے بچے کا پیشاب بدن پر لگ کر سوکھ جائے اور بد بو نہ آئے تو کیا وہ پاک ہے ؟ بچے کے پیشاب کا کیا حکم
Answer (beginning)
بچہ اگر چہ ایک دن کا ہو ، اس کا پیشاب ناپاک ہے لہذا اگر یہ بدن پر لگ جائے تو بدن ناپاک ہو جائے گا،اب جب تک پیشاب کو زائل نہ کریں گے ، جسم نا پاک ہی رہے گا، اگر چہ پیشاب سوکھ جائے اور اس کی بد بو ختم ہو جائے کہ بدن پر پیشاب لگ جائے تو فقط سوکھنے اور بو ختم ہونے سے بدن پاک نہیں ہوتا۔ در مختار میں ہے " (و) تظهر (أرض) بخلات نحو بساط (بيبسها) أي: جفافها ولو بريح ( وذهاب أثرها كلون) وربح ترجمه: زمین بخلاف بچھونے کے خشک ہونے اگر چہ ہوا سے خشک ہو، اور نجاست کا اثر یعنی رنگ و بو زائل ہونے سے پاک ہو جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.