Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کلیم اللہ نام کا مطلب اور کلیم اللہ نام رکھنا کیسا ہے؟

Fatwa no.
1303-WAT
Issued
08 جمادی الاولی 1444ھ /03دسمبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا بچے کا نام کلیم اللہ رکھ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

جی ہاں، بچے کا نام ” کلیم اللہ “ رکھنا جائز ہے۔ البتہ ! بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف " محمد "رکھیں کیونکہ حدیث پاک میں نام محمد رکھنے کی فضیات اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے۔ اور پھر پکارنے کے لیے مذکورہ بالا نام رکھ لیجیے۔ محمد نام رکھنے کی فضیلت: کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " من ولدله مولود ذكر فسماه 66 محمداحبالي وتبركاباسمي كان هو ومولوده في الجنة “ ترجمہ : جس کے ہاں بیٹا پید اہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹادونوں جنت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.