Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مغرب کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھنا

Fatwa no.
1300-WAT
Issued
07 جمادی الاولی 1444ھ /02دسمبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مغرب کی تیسری رکعت میں بھولے سے دعائے قنوت پڑھ لی تو سجدہ سہو سے نماز ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

مغرب کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت خواہ بھولے سے پڑھی ہو یا جان بوجھ کر بہر صورت اس سے نماز میں کوئی فرق نہیں آتا لہذا سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں، بغیر اس کے ہی نماز درست ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ : فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں فاتحہ کی قراءت افضل ہے واجب نہیں، تین بار تسبیح کہنے یا اتنی مقدار خاموش کھڑے رہنے کا بھی اختیار ہے۔ البتہ بالکل خاموش کھڑے رہنا مناسب نہیں ہے اور دعائے قنوت بھی تسبیح ہے لہذا مغرب کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھ لی تو سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں، نماز ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.