Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوران غسل قبلہ کو مونھ یاپیٹھ کرنا

Fatwa no.
1297-WAT
Issued
06 جمادی الاولی 1444ھ/01دسمبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا غسل کے دروان قبلہ کی جانب موتھ یا پیٹھ کرنا گناہ ہے ؟

Answer (beginning)

بحالت برہنگی ( ننگے ہونے کی حالت میں) قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر نامکر وہ و خلاف ادب ہے ،لہذا جب کوئی شخص برہنگی کی حالت میں غسل کرے، جس طرح عام طو پر کرتے ہیں، تو اس صورت میں ادب یہی ہے کہ قبلہ کہ طرف موتھ یا پیٹھ نہ کی جائے۔ فتاوی عالمگیری میں آداب غسل کے تحت ہے: " ان لا يستقبل القبلة وقت الغسل " غسل کے وقت قبلہ کی طرف رخ نہ کرے۔ (فتاوی عالمگیری،ج1،ص14،مطبوعہ، کوئٹہ) فتاوی رضویہ میں ہے : " بحالت بر ہنگی قبلہ کو منہ یا پیٹ کرنا، مگر وہ وخلاف ادب۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.