Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ظہر و عصر کی جماعت میں تاخیر سے شامل ہونے والے کا ثنا پڑھنا

Fatwa no.
1292-WAT
Issued
05 جمادی الاولی 1444ھ /30 نومبر 2022ء

Question

امام کے قراءت شروع کرنے کے بعد جو شخص جماعت میں شامل ہو، وہ ثنا نہیں پڑھ سکتا، کہ امام کی قراءت سننا ضروری ہے ، اس پر سوال یہ ہے کہ سری نماز مثلاً ظہر، عصر میں امام آہستہ قراءت کرتا ہے، تو کیا اس صورت میں تاخیر سے جماعت میں شامل ہونے والا ثنا پڑھ سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

اگر کوئی شخص امام کے ساتھ قراءت شروع ہونے کے بعد جماعت میں شامل ہوا، توا گر امام جہر سے قراءت کر رہا ہو ، تو اس کے لیے حکم ہے کہ ثنا نہ پڑھے، ہاں اگر امام آہستہ قراءت کرتا ہو، تو پڑھ لے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں ظہر اور عصر کی نماز میں جو شخص تاخیر کے ساتھ جماعت میں شامل ہوا، تو وہ امام کے قراءت شروع کرنے کے بعد بھی شنا پڑھ سکتا ہے۔ بہار شریعت میں ہے ”امام نے بالجسر قرآت شروع کر دی تو مقتدی ثانہ پڑھے ، اگرچہ بوجہ دور ہونے یا بہرے ہونے کے امام کی آواز نہ سنتا ہو، جیسے جمعہ و عیدین میں پچھلی صف کے مقتدی کہ بوجہ دور ہونے کے قراءت نہیں سنتے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.