Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اسری، یسری، سدرۃ نام رکھنے کا حکم؟

Fatwa no.
1290-WAT
Issued
04 جمادی الاولی 1444ھ /30 نومبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بچیوں کے یہ نام رکھ سکتے ہیں: "اسری،يُسرى،سدرة"

Answer (beginning)

(1) "آسری " جس تلفظ سے آپ نے ادا کیا، نام نہیں بلکہ فعل ہے جس کا معنی ہے : رات میں لے گیا۔ رات میں سیر کروایا۔ لہذا اس کو بطور نام نہ رکھا جائے۔ (2) ٹیسری یہ " ایسر " کی تانیث ہے، جس کے معنی ہے: "آسمانی، سہولت ، بایاں ہاتھ "(3) اور "سدرۃ" کے معنی ہے "بیری کا درخت۔ " یہ نام رکھے جاسکتے ہیں۔ یادر ہے ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنھن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے، مثلاً عائشہ ، خدیجہ وغیرہ کہ اس کی وجہ سے ان بزرگ خواتین کی برکتیں بھی شامل حال ہوں گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.