Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ظہر کی سنت قبلیہ کے دوران جماعت کھڑی ہوجائے تو کیا کریں ؟
- Fatwa no.
- 1282-WAT
- Issued
- 01 جمادی الاولی 1444ھ /26 نومبر 2022ء
Question
ظہر کی چار رکعت سنت موکد و پڑھ رہے ہوں اسی دوران جماعت قائم ہو جائے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نماز جاری رکھیں یا سلام پھیر کر جماعت میں شامل ہو جائیں ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں چار رکعات سنتیں مکمل کر کے جماعت میں شامل ہونا چاہیے۔ در مختار میں ہے " ( والشارع في نفل لا يقطع مطلقا) ويتمه ركعتين (وكذا سنة الظهرو) سنة (الجمعة إذا أقيمت أو خطب الإمام) يتمها أربعا ترجمہ : کوئی بندہ نفل شروع کر چکا تھا کہ جماعت قائم ہوئی تو نفل نہ توڑے بلکہ دور کعتیں مکمل کرے ، اسی طرح ظہر کی سنتیں شروع کیں تو جماعت قائم ہوئی یا جمعہ کی سنتیں شروع کیں تو امام نے خطبہ شروع کیا تو بھی پوری چار مکمل کرے۔ (در مختار، کتاب الصلاة، باب ادراک الفريضة،ج2، ص53،دار الفکر بیروت) بہار شریعت میں ہے "جمعہ اور ظہر کی سنتیں پڑھنے میں خطبہ یا جماعت شروع ہوئی تو چار پوری کرلے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.