Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا عمرہ میں طواف وداع کا حکم ہے؟

Fatwa no.
1275-WAT
Issued
27 ربیع الثانی 1444ھ / 23 نومبر 2022ء

Question

جناب کیا عمرہ کرنے والے کے لیے بھی طواف وداع واجب ہے؟

Answer (beginning)

عمرہ کرنے والے پر طواف وداع واجب نہیں ہوتا۔ چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہار شریعت میں نقل فرماتے ہیں " (حاجی کا ) جب ارادہ رخصت کا ہو طواف وداع بے ترمل وسعی واضطباع بجالائے کہ باہر والوں پر واجب ہے۔ ہاں وقت رُخصت عورت حیض یا نفاس سے ہو تو اس پر نہیں، جس نے صرف عمرہ کیا ہے اس پر یہ طواف واجب نہیں پھر بعد طواف بدستور دورکعت مقام ابراہیم میں پڑھے " (بہار شریعت،جلد1،حصہ6،صفحہ1151،مکتبة المدینه، کراچی) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.