Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا قربانی کی کھال کسی کو تحفے میں دینا جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 1272-WAT
- Issued
- 22 ربیع الثانی 1444ھ/18 نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قربانی کے جانور کی کھال کسی غنی کو تحفے کے طور پر دی جاسکتی ہے؟
Answer (beginning)
قربانی کی کھال غنی کو بطور تحفہ دینا جائز ہے۔ فتاوی رضویہ شریف میں ہے "کھال کی جس طرح جانماز یا کتابوں کی جلدیں یا مشکیزہ اپنے لئے بنوا سکتا ہے یو نہی کسی غنی کو بھی ہدیہ دے سکتا ہے۔" (فتاوی رضویہ شریف، جلد20،صفحہ465،رضافاؤنڈیشن،لاہور) ایک اور مقام پر ہے " واجب اضحیہ اراقتہ دم سے ادا ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد لحم و جلد اس کی ملک ہیں،اس میں ہر تصرف مالکانہ کر سکتا ہے صرف تمول ممنوع ہے۔ تو کھال بیعینہ ، خواہ اس کا ڈول، مشک، کتاب کی جلد و غیرہ بنوا کر اپنے صرف میں لا سکتا ہے۔ سید کو بھی دے سکتا ہے ہر غنی کو دے سکتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.