Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مھیمن نام کا مطلب اور محمد مھیمن علی نام رکھنا کیسا ؟

Fatwa no.
1268-WAT
Issued
21 ربیع الثانی 1444ھ /17 نومبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) لڑکے کا نام محمد مھیمن علی رکھ سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

مذکورہ نام رکھنا جائز نہیں ہے۔ مصیمین اللہ تعالی کے ان ناموں سے ہے جو اس عزو جل کے ساتھ خاص ہے۔ مخلوق میں سے کسی کا یہ نام رکھنا جائز نہیں۔ لہذا عبدا مھیمن نام رکھا جائے۔ شرح النووی میں ہے " و أعلم أن التسمي بهذا الاسم حرام وكذلك التسمي بأسماء الله تعالى المختصة به كالرحمن والقدوس والمهيمن وخالق الخلق ونحوها" ترجمہ : جان لو! یہ نام رکھنا حرام ہے اسی طرح وہ اسماء جو اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہیں مثلار حمن، قدوس، مهیمن، خالق الخلق و غیر ہ اسماء بھی بطور نام رکھنا حرام ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.