Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
محمد الرحمن کا مطلب اور محمد الرحمن نام رکھنا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 1263-WAT
- Issued
- 20 ربیع الثانی 1444ھ /16 نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا محمد کے ساتھ الرحمن لگا سکتے ہیں، یعنی محمد الرحمن کہنا کیسا؟
Answer (beginning)
"رحمن " خاص اللہ تعالی کا صفاتی نام ہے، کسی بندے کے لیے نہیں بولا جاسکتا، لہذا جب بھی یہ نام رکھا جائے، تو " عبد " کی اضافت کے ساتھ رکھا جائے، یعنی "عبد الرحمن "رکھا جائے اور یہی بولا جائے اور اکیلا "رحمن " نام رکھنا اور بولنا، ناجائز و گناہ ہے ، اور بعض فقہائے کرام کے نزدیک تو کفر ہے لہذا محمد الرحمن، نام بھی نہیں رکھ سکتے اور اس طرح پکار بھی نہیں سکتے ، اگر نام رکھنا چاہیں تو پورا عبد الرحمن رکھیں اور عبد الرحمن ہی پکاریں،اس صورت میں اگر ساتھ محمد لگا کر محمد عبد الرحمن رکھنا یا پکارنا چاہیں تو اس میں بھی حرج نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.